اللہ کی حمد میں انسان کی خوشی
اللہ تعالیٰ ہی ہمارا خالق، مالک، رازق اور حقیقی محسن ہے۔ ہم جو کچھ رکھتے ہیں، وہ اسی کی عطا ہے، اور جو کچھ ہمیں حاصل نہیں، اس میں بھی اس کی حکمت ہے۔ انسان جب اس حقیقت کو دل سے پہچان لیتا ہے تو اس کے اندر ایک عجیب سکون پیدا ہوتا ہے۔ پھر عبادت صرف ایک ذمہ داری نہیں رہتی بلکہ محبوب رب کے قریب ہونے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حمد، شکر، عبادت اور خوشی ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہیں تو کبھی گن نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو انہیں شمار نہ کر سکو گے۔ بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔” (النحل 16:18)
یہ آیت ہمارے لیے صرف معلومات نہیں، بلکہ زندگی دیکھنے کا ایک نیا انداز ہے۔ ہماری سانس، صحت، گھر، خاندان، رزق، عقل، ایمان، توبہ کی توفیق، قرآن سے تعلق اور اللہ کو پکارنے کی صلاحیت—یہ سب نعمتیں ہیں۔ ان میں سے بعض ایسی ہیں جنہیں ہم روز دیکھتے ہیں، مگر ان کی قدر کم محسوس کرتے ہیں۔
اللہ ہی حمد کا سب سے زیادہ مستحق ہے
ہم انسانوں کی معمولی مہربانیوں پر بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ کوئی ہماری مدد کرے تو ہم کہتے ہیں: “بہت شکریہ۔” کوئی مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دے تو ہم اس کے احسان کو یاد رکھتے ہیں۔ تو پھر اس رب کا شکر کس قدر زیادہ ہونا چاہیے جس نے ہمیں وجود دیا، ایمان کا راستہ دکھایا اور ہر لمحہ ہماری زندگی کو اپنی نعمتوں سے ڈھانپ رکھا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔” (الذاریات 51:56)
عبادت کا مطلب صرف نماز، روزہ اور تلاوت ہی نہیں۔ یہ سب عبادت کے عظیم حصے ہیں، لیکن اللہ کی بندگی کا دائرہ اس سے وسیع ہے۔ حلال رزق کمانا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، زبان کو جھوٹ اور غیبت سے بچانا، اپنے دل میں اللہ کو یاد رکھنا اور اپنی نعمتوں کو صحیح جگہ استعمال کرنا بھی بندگی کا حصہ بن سکتا ہے۔
جب بندہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی پوری زندگی اللہ کی طرف سے ایک امانت ہے تو اس کا اندازِ زندگی بدلنے لگتا ہے۔
شکر صرف زبان سے “الحمدللہ” کہنا نہیں
“الحمدللہ” کہنا بہت عظیم ذکر ہے، مگر شکر صرف زبان کا عمل نہیں۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے شکر کی حقیقت کو دل، زبان اور عمل سے جوڑا ہے: دل میں نعمت کو پہچاننا، زبان سے اللہ کی حمد کرنا اور اعضا کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کرنا۔
ذرا غور کیجیے۔ اگر اللہ نے ہمیں آنکھیں دی ہیں تو شکر یہ ہے کہ ہم انہیں حرام چیزوں سے بچائیں۔ اگر زبان دی ہے تو اسے قرآن، ذکر، اچھی گفتگو اور لوگوں کی دل جوئی میں استعمال کریں۔ اگر مال دیا ہے تو اس میں محتاجوں کا حق پہچانیں۔ اگر علم دیا ہے تو اسے تکبر کے بجائے خیر کے لیے استعمال کریں۔
اس طرح شکر ایک احساس سے بڑھ کر زندگی کا طریقہ بن جاتا ہے۔
عبادت میں ہماری خوشی کیوں ہے؟
کبھی ہم عبادت کو صرف فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں اور کبھی دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ نماز دراصل اپنے رب سے ملاقات ہے۔ یہ دوسرا احساس عبادت کو زندہ کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔” (الرعد 13:28)
ہم سکون کو کبھی مال میں، کبھی شہرت میں، کبھی لوگوں کی تعریف میں اور کبھی دنیاوی کامیابی میں تلاش کرتے ہیں۔ یہ چیزیں اپنی جگہ مفید ہو سکتی ہیں، لیکن دل کا مستقل اطمینان ان کے اختیار میں نہیں۔ انسان کے اندر ایک ایسی ضرورت ہے جسے صرف اس کا خالق جانتا ہے۔
اسی لیے نماز کے بعد دل ہلکا محسوس ہوتا ہے، قرآن کی آیت کبھی اچانک آنکھوں میں نمی لے آتی ہے، اور سجدے میں انسان کو وہ قرب محسوس ہوتا ہے جسے دنیا کی کوئی چیز مکمل طور پر نہیں دے سکتی۔
اگر آپ ابھی عبادت میں کمزور ہیں تو مایوس نہ ہوں
یہ بات خاص طور پر ان بھائیوں اور بہنوں کے لیے ہے جو اسلام سے محبت تو کرتے ہیں لیکن اپنی عبادت میں کمزوری محسوس کرتے ہیں۔ شاید نمازیں چھوٹ جاتی ہیں، قرآن سے تعلق کم ہے، یا گناہوں سے نکلنا مشکل لگتا ہے۔
اللہ کی طرف واپسی کے لیے کامل بننا شرط نہیں۔ واپسی خود کمال کی طرف پہلا قدم ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک وہ عمل زیادہ محبوب ہے جو مستقل کیا جائے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ (صحیح بخاری، 6462)
اس لیے اپنے اوپر اتنا بوجھ نہ ڈالیں کہ چند دن بعد سب چھوڑ دیں۔ آج ایک نماز کی حفاظت بہتر بنائیں، پھر باقی نمازوں کی طرف بڑھیں۔ روز چند آیات قرآن پڑھیں۔ روزانہ چند مرتبہ دل سے “الحمدللہ” کہیں۔ سونے سے پہلے اپنی نعمتوں کو یاد کریں۔ گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کریں۔
اللہ کی طرف چلنے والا شخص کبھی ناکام نہیں ہوتا، بشرطیکہ وہ چلنا بند نہ کرے۔
اللہ کی رحمت پر بھروسا رکھیے
ہم میں سے کوئی بھی اپنی عبادت، اپنے اعمال یا اپنی نیکیوں پر بھروسا کرکے اللہ کی رحمت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کسی شخص کو اس کے اعمال اکیلے جنت میں داخل نہیں کریں گے، بلکہ اللہ کی رحمت شاملِ حال ہوگی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اعمال کی ضرورت نہیں۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہم نیکی کرتے ہوئے عاجزی اختیار کریں۔ نماز پڑھیں مگر تکبر نہ کریں۔ روزہ رکھیں مگر دوسروں کو حقیر نہ سمجھیں۔ صدقہ کریں مگر اپنے عمل پر فخر نہ کریں۔
ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ وہ اس کے لائق ہے، اور ہم اس کی رحمت کے محتاج ہیں۔
یہ احساس انسان کو نرم بناتا ہے۔ پھر وہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوتا ہے مگر اللہ سے مایوس نہیں ہوتا۔ وہ اپنی نیکیوں پر خوش ہوتا ہے مگر مغرور نہیں ہوتا۔
آزمائش میں بھی اللہ پر اعتماد
زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوگی۔ بیماری، مالی پریشانی، رشتوں کی مشکلات، ناکامی اور جدائی انسان کے دل کو تھکا سکتی ہیں۔ ایسے وقت میں شکر کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے دکھ کو جھٹلائیں۔ اسلام ہمیں دکھ محسوس کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن ہمیں اللہ سے تعلق توڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو چیز تمہیں فائدہ دے، اس کے لیے کوشش کرو، اللہ سے مدد مانگو اور ہمت نہ ہارو۔” (صحیح مسلم، 2664)
یہ کتنا خوبصورت توازن ہے: کوشش بھی، دعا بھی؛ تدبیر بھی، توکل بھی۔
کبھی ہماری خواہش پوری ہوتی ہے اور ہم کہتے ہیں: “الحمدللہ۔” کبھی خواہش پوری نہیں ہوتی، پھر بھی مومن کہتا ہے: “یا اللہ! مجھے اپنی حکمت پر بھروسا ہے۔” یہی اعتماد دل کو مضبوط کرتا ہے۔
اللہ کی نعمتوں کو دیکھنے کی عادت ڈالیں
آج کچھ دیر خاموش بیٹھ کر اپنے رب کی نعمتوں پر غور کیجیے۔ اپنی آنکھوں کو یاد کیجیے۔ اپنے والدین یا بچوں کو یاد کیجیے۔ اپنے ایمان کو یاد کیجیے۔ اس حقیقت کو یاد کیجیے کہ آپ ابھی بھی اللہ کو پکار سکتے ہیں۔
پھر دل سے کہیں: “یا اللہ! میں تیری نعمتوں کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ تو نے مجھے بہت کچھ دیا، جبکہ میں بہت کم شکر کرتا ہوں۔ مجھے اپنا شکر گزار بندہ بنا دے۔”
یہی غور و فکر آہستہ آہستہ دل کو بدل دیتا ہے۔
حمد سے محبت تک کا سفر
اللہ کی حمد صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں؛ یہ محبت کا آغاز ہے۔ جب ہم بار بار اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں تو دل میں اس کے لیے محبت بڑھتی ہے۔ جب محبت بڑھتی ہے تو عبادت بوجھ نہیں رہتی۔ پھر نماز میں جلدی ختم کرنے کے بجائے دل چاہتا ہے کہ کچھ دیر اور کھڑے رہیں۔ قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں رہتا بلکہ رب کا پیغام محسوس ہونے لگتا ہے۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ نے شکر کو بندے کی خوش بختی سے جوڑا اور اس کے بنیادی مظاہر میں نعمت کو پہچاننا، اس کا اعتراف کرنا اور اسے اللہ کی پسند کے مطابق استعمال کرنا بیان کیا۔
یہی شکر ہمیں اللہ کے قریب لے جاتا ہے۔
آج سے ایک چھوٹا قدم
ہمیں اپنی پوری زندگی ایک دن میں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس آج اللہ کی طرف ایک قدم بڑھا دیں۔
ایک نماز زیادہ توجہ سے پڑھیں۔ ایک آیت سمجھ کر پڑھیں۔ کسی انسان کو معاف کریں۔ کسی ضرورت مند کی مدد کریں۔ ایک گناہ چھوڑنے کا ارادہ کریں۔ اور چند لمحوں کے لیے صرف اللہ کی نعمتوں کو یاد کرکے “الحمدللہ” کہیں۔
شاید یہ عمل بہت چھوٹا محسوس ہو، لیکن اللہ کے ہاں اخلاص کے ساتھ کیا گیا عمل معمولی نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتوں کو پہچاننے، اس کی حمد کرنے، اس کی عبادت میں لذت پانے اور مشکل وقت میں اس پر بھروسا رکھنے والا بنائے۔ ہمارے دلوں کو اپنے ذکر سے زندہ کرے، ہماری کمزوریوں کو اپنی رحمت سے ڈھانپ دے، اور ہمیں ایسا شکر گزار بندہ بنائے جس کی زبان پر حمد، دل میں محبت اور زندگی میں اطاعت ہو۔
آخرکار انسان کی حقیقی خوشی بہت سی چیزیں حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے رب کو پہچاننے میں ہے۔ جب دل کو یقین ہو جائے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، میری دعا سنتا ہے، میری توبہ قبول کرسکتا ہے اور اپنی رحمت سے مجھے سنبھال سکتا ہے تو زندگی کے حالات جیسے بھی ہوں، امید باقی رہتی ہے۔
اور شاید یہی بندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت ہے: ہم اللہ کے محتاج ہیں، جبکہ وہ ہم سے بے نیاز ہے؛ پھر بھی وہ ہمیں اپنی طرف بلاتا ہے۔ اس لیے آئیے، عاجزی سے اس کی طرف لوٹیں، محبت سے اس کی حمد کریں، اور دل سے کہیں:
الحمدللہ رب العالمین۔
Please read similar posts at https://drlal.co.uk
