جب روح اللہ کو پکارتی ہے ہر دل کے اندر ایک خاموش پکار ہوتی ہے زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا وقت ضرور آتا ہے جب سب کچھ موجود ہونے کے باوجود دل خالی محسوس ہوتا ہے۔ گھر، کام، تعلیم، کامیابی، تعلقات—سب اپنی جگہ ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی اندر ایک خاموش سی طلب باقی رہتی ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب روح اپنے اصل رب کو یاد کرتی ہے۔ انسان کی روح دنیا کی چیزوں سے مکمل سکون حاصل نہیں کر سکتی، کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت اور عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ جب روح اپنے خالق کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو دل میں ایک ایسی راحت پیدا ہوتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔" (سورۂ الرعد 13:28) یہ آیت صرف ایک وعدہ نہیں بلکہ ہر انسان کے دل کی حقیقت بیان کرتی ہے۔ کبھی کبھی بے چینی بھی ایک نعمت ہوتی ہے ہم اکثر بے چینی کو صرف ایک مسئلہ سمجھتے ہیں۔ لیکن کبھی یہی بے چینی ہمیں اللہ کے قریب لے آتی ہے۔ جب دنیا کی چیزیں دل کو بھر نہیں پاتیں، تب انسان سوچتا ہے کہ آخر وہ کیا ہے جس کی کمی باقی ہے؟ یہ سوال قیمتی ہے۔ یہ سوال ان...
یقین کے ساتھ غیر یقینی حالات کا سفر غیر یقینی حالات زندگی کا حصہ ہیں زندگی ہمیشہ ہماری منصوبہ بندی کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی مستقبل واضح نظر آتا ہے، اور کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر طرف دھند ہی دھند ہے۔ ایک ملازمت ختم ہو جاتی ہے، کاروبار میں مشکلات آ جاتی ہیں، بیماری آ جاتی ہے، رشتوں میں آزمائش آتی ہے، یا ہم کسی ایسے فیصلے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں جس کا انجام ہمیں معلوم نہیں ہوتا۔ ایسے لمحوں میں دل پریشان ہونا ایک فطری بات ہے۔ لیکن اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ غیر یقینی حالات خوف کی منزل نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے اور اپنے ایمان کو مضبوط بنانے کا ایک خوبصورت موقع ہیں۔ ایک مومن کا سکون اس بات پر نہیں ہوتا کہ اسے کل کے بارے میں سب کچھ معلوم ہے، بلکہ اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہر چیز کو جانتا ہے۔ جب دل اللہ پر یقین کر لیتا ہے تو اندھیرا بھی امید میں بدلنے لگتا ہے، اور مشکل راستے بھی اللہ کی رحمت کی طرف لے جانے والے سفر بن جاتے ہیں۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے انسان محدود علم رکھتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا علم کامل اور بے عیب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ...