نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

جب روح اللہ کو پکارتی ہے


 

جب روح اللہ کو پکارتی ہے

ہر دل کے اندر ایک خاموش پکار ہوتی ہے

زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا وقت ضرور آتا ہے جب سب کچھ موجود ہونے کے باوجود دل خالی محسوس ہوتا ہے۔ گھر، کام، تعلیم، کامیابی، تعلقات—سب اپنی جگہ ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی اندر ایک خاموش سی طلب باقی رہتی ہے۔

شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب روح اپنے اصل رب کو یاد کرتی ہے۔

انسان کی روح دنیا کی چیزوں سے مکمل سکون حاصل نہیں کر سکتی، کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت اور عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ جب روح اپنے خالق کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو دل میں ایک ایسی راحت پیدا ہوتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔"
(سورۂ الرعد 13:28)

یہ آیت صرف ایک وعدہ نہیں بلکہ ہر انسان کے دل کی حقیقت بیان کرتی ہے۔

کبھی کبھی بے چینی بھی ایک نعمت ہوتی ہے

ہم اکثر بے چینی کو صرف ایک مسئلہ سمجھتے ہیں۔

لیکن کبھی یہی بے چینی ہمیں اللہ کے قریب لے آتی ہے۔

جب دنیا کی چیزیں دل کو بھر نہیں پاتیں، تب انسان سوچتا ہے کہ آخر وہ کیا ہے جس کی کمی باقی ہے؟

یہ سوال قیمتی ہے۔

یہ سوال انسان کو اپنے رب کی طرف لے جا سکتا ہے۔

بہت سے لوگوں کی زندگی میں ہدایت کا آغاز کسی مشکل، کسی نقصان یا کسی اندرونی خلش سے ہوا۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو چھوڑتے نہیں۔

کبھی نعمت کے ذریعے بلاتے ہیں، کبھی آزمائش کے ذریعے، اور کبھی دل میں پیدا ہونے والی خاموش تڑپ کے ذریعے۔

اللہ اپنے بندوں سے دور نہیں

بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ انہوں نے بہت غلطیاں کی ہیں، اس لیے شاید اب اللہ ان کی طرف توجہ نہیں فرمائیں گے۔

یہ خیال امید کو کمزور کر دیتا ہے۔

لیکن قرآن ہمیں ایک مختلف حقیقت سکھاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو یقیناً میں قریب ہوں۔ دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔"
(سورۂ البقرہ 2:186)

کتنی خوبصورت بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں کسی واسطے کا ذکر نہیں فرمایا۔

انہوں نے خود فرمایا کہ "میں قریب ہوں۔"

شاید ہم نے اللہ سے زیادہ دوری محسوس کی ہو، لیکن اللہ کی رحمت ہم سے کبھی دور نہیں ہوتی۔

توبہ ہمیشہ کھلا ہوا دروازہ ہے

انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں۔

یہ ہماری کمزوری بھی ہے اور ہماری حقیقت بھی۔

لیکن اسلام انسان کو صرف اس کی غلطیوں سے نہیں پہچانتا۔

اسلام اس کی واپسی کو بھی اہمیت دیتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"ہر انسان خطا کرنے والا ہے، اور بہترین خطا کرنے والے وہ ہیں جو بار بار توبہ کرتے ہیں۔"
(جامع الترمذی، حدیث 2499)

اس حدیث میں کتنی امید چھپی ہوئی ہے۔

کامل ہونا شرط نہیں۔

واپس آنا اہم ہے۔

ہر سچی توبہ ایک نئی شروعات بن سکتی ہے۔

دل کی روشنی کیسے بڑھتی ہے؟

روح اللہ کو چاہتی ہے، لیکن روزمرہ کی مصروفیات اس آواز کو دھندلا دیتی ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم دل کو تھوڑا وقت دیں۔

یہ مشکل عمل نہیں۔

بلکہ چھوٹے چھوٹے قدم ہیں۔

نماز کو جلدی ختم کرنے کے بجائے چند لمحے سکون سے ادا کریں۔

روزانہ قرآن کی چند آیات سمجھ کر پڑھیں۔

صبح یا شام چند منٹ اللہ کا ذکر کریں۔

اپنی دعاؤں میں صرف ضرورتیں نہ مانگیں، بلکہ اللہ سے اپنا دل بھی مانگیں۔

یہ چھوٹے عمل آہستہ آہستہ روح کو تازگی دینے لگتے ہیں۔

ذکر صرف زبان کا عمل نہیں

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ذکر صرف مخصوص الفاظ دہرانے کا نام ہے۔

لیکن ذکر اس سے کہیں وسیع ہے۔

ذکر وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنے رب کو یاد رکھتے ہوئے زندگی گزارتا ہے۔

جب رزق ملے تو شکر ادا کرے۔

جب آزمائش آئے تو صبر کرے۔

جب گناہ ہو جائے تو توبہ کرے۔

جب کامیابی ملے تو تکبر کے بجائے عاجزی اختیار کرے۔

یہ سب ذکر ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا:

"دل کے لیے اللہ کا ذکر ایسا ہے جیسے مچھلی کے لیے پانی۔"

یہ تشبیہ بہت گہری ہے۔

جیسے پانی کے بغیر مچھلی بے چین ہو جاتی ہے، ویسے ہی اللہ کی یاد کے بغیر دل اپنی حقیقی زندگی کھونے لگتا ہے۔

اللہ کی محبت کیسے بڑھتی ہے؟

اللہ کی محبت صرف ایک احساس نہیں۔

یہ ایک سفر ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔"
(صحیح البخاری، حدیث 6502)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کی محبت کوئی دور کی چیز نہیں۔

ہر اضافی نیکی، ہر اخلاص بھری دعا، ہر چھپی ہوئی نیکی، ہر معاف کرنا، ہر سچا استغفار ہمیں اس محبت کے قریب لے جا سکتا ہے۔

عام زندگی بھی عبادت بن سکتی ہے

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ کے قریب ہونے کے لیے دنیا چھوڑنا ضروری ہے۔

اسلام ایسا نہیں سکھاتا۔

اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک عبادت ہے۔

حلال روزی کمانا عبادت ہے۔

اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ محبت سے پیش آنا عبادت ہے۔

مسکرا کر کسی سے ملنا بھی صدقہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تمہارا اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔"
(جامع الترمذی، حدیث 1956)

یہ دین زندگی سے الگ نہیں۔

یہ زندگی کو روشن کرنے آیا ہے۔

اگر دل ابھی بھی بھٹکا ہوا محسوس ہو؟

شاید آپ یہ مضمون پڑھتے ہوئے سوچ رہے ہوں کہ میرا دل ابھی بھی ویسا ہی ہے۔

شاید عبادت میں وہ لذت محسوس نہیں ہوتی۔

شاید دعا کرتے ہوئے آنکھیں نم نہیں ہوتیں۔

یہ احساس بہت سے مخلص لوگوں نے بھی محسوس کیا ہے۔

مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔

دل بدلتے رہتے ہیں۔

ایمان بڑھتا بھی ہے اور کم بھی ہوتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ انسان اللہ کا دروازہ نہ چھوڑے۔

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے تھے:

"مومن ہر دن اپنے دل کا محاسبہ کرتا ہے۔"

یہ محاسبہ خود کو ملامت کرنا نہیں۔

بلکہ اپنے رب کی طرف واپس دیکھنا ہے۔

امید کبھی ختم نہ ہونے دیں

شیطان کی سب سے بڑی خواہش یہ نہیں کہ انسان صرف گناہ کرے۔

بلکہ یہ ہے کہ گناہ کے بعد انسان امید چھوڑ دے۔

لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔"
(سورۂ الزمر 39:53)

یہ آیت امید کا چراغ ہے۔

چاہے ماضی کیسا بھی ہو، اللہ کی رحمت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

روح کی طلب شاید ایک دعوت ہے

کبھی کبھی ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اللہ کو تلاش کر رہے ہیں۔

لیکن شاید حقیقت اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔

شاید اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمیں اپنی طرف بلا رہے ہیں۔

ہر وہ لمحہ جب دل نرم ہو جائے…

ہر وہ دعا جو خاموشی میں نکلے…

ہر وہ آنسو جو صرف اللہ کے لیے بہے…

ہر وہ خواہش کہ "میں بہتر انسان بننا چاہتا ہوں"…

یہ سب شاید اسی دعوت کی نشانیاں ہیں۔

میں نہیں جانتا کہ آپ اس وقت زندگی کے کس مقام پر ہیں۔

شاید آپ ابھی دین کی ابتدا کر رہے ہیں۔

شاید برسوں سے عبادت کر رہے ہیں۔

شاید آپ کسی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔

یا شاید صرف دل کے سکون کی تلاش میں ہیں۔

لیکن ایک بات پر بھروسا کیا جا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی طرف اس کی توقع سے زیادہ رحمت کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں۔

شاید روح کی سب سے بڑی خواہش کسی نئی چیز کو پانے کی نہیں…

بلکہ اس رب کی طرف واپس لوٹنے کی ہے جس نے اسے پیدا کیا، ہمیشہ جانا، اور کبھی بھلایا نہیں۔

اور شاید آج کا سوال یہ نہیں کہ اللہ کہاں ہیں؟

شاید اصل سوال یہ ہے…

اگر وہ ہمیشہ قریب تھے، تو کل ہم اپنے دل کو ان کی قربت محسوس کرنے کے لیے کیسے تھوڑا سا زیادہ کھول سکتے ہیں؟