آخرت کی تیاری ہی مومن کی اصل کامیابی ہے دنیا ایک عارضی سفر ہے انسان اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آیا۔ ہماری زندگی ایک مختصر سفر ہے، جس کا اختتام موت پر ہوتا ہے، اور اس کے بعد ایک ابدی زندگی شروع ہوتی ہے جسے آخرت کہتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دنیا کی کامیابی کے لیے تو دن رات محنت کرتے ہیں، لیکن آخرت کی تیاری کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اسلام ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کھیتی ہے اور آخرت اس کی فصل۔ جو شخص یہاں نیک اعمال بوئے گا، وہ وہاں رحمت، مغفرت اور جنت کی نعمتیں حاصل کرے گا۔ اس لیے ایک مسلمان کی اصل فکر یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے رب کے سامنے کس حال میں حاضر ہوگا۔ قرآن مجید کی رہنمائی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔" (سورۃ العنکبوت 29:57) ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: "جس شخص کو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی حقیقت میں کامیاب ہے، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔" (سورۃ آلِ عمران 3:185) یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ دنیا کی کامیابی عارضی ہے، جبکہ آخرت کی کامیاب...