نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جون, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

آخرت کی تیاری ہی مومن کی اصل کامیابی ہے

  آخرت کی تیاری ہی مومن کی اصل کامیابی ہے دنیا ایک عارضی سفر ہے انسان اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آیا۔ ہماری زندگی ایک مختصر سفر ہے، جس کا اختتام موت پر ہوتا ہے، اور اس کے بعد ایک ابدی زندگی شروع ہوتی ہے جسے آخرت کہتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دنیا کی کامیابی کے لیے تو دن رات محنت کرتے ہیں، لیکن آخرت کی تیاری کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اسلام ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کھیتی ہے اور آخرت اس کی فصل۔ جو شخص یہاں نیک اعمال بوئے گا، وہ وہاں رحمت، مغفرت اور جنت کی نعمتیں حاصل کرے گا۔ اس لیے ایک مسلمان کی اصل فکر یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے رب کے سامنے کس حال میں حاضر ہوگا۔ قرآن مجید کی رہنمائی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔" (سورۃ العنکبوت 29:57) ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: "جس شخص کو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی حقیقت میں کامیاب ہے، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔" (سورۃ آلِ عمران 3:185) یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ دنیا کی کامیابی عارضی ہے، جبکہ آخرت کی کامیاب...

دعا کی طاقت: مومن کا سب سے مضبوط سہارا

دعا کی طاقت: مومن کا سب سے مضبوط سہارا دعا بندے اور رب کے درمیان محبت کا رشتہ انسان کی زندگی میں ایسے بے شمار لمحات آتے ہیں جب اس کے اپنے وسائل، عقل اور منصوبے ناکافی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ کبھی بیماری انسان کو بے بس کر دیتی ہے، کبھی معاشی پریشانیاں دل کو گھیر لیتی ہیں، کبھی رشتوں میں تلخی آ جاتی ہے، اور کبھی مستقبل کا خوف انسان کی نیند چھین لیتا ہے۔ ایسے وقت میں ایک سچے مومن کا سب سے بڑا سہارا دعا ہوتی ہے۔ دعا صرف اپنی ضرورتیں مانگنے کا نام نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی، محتاجی اور محبت کا اظہار بھی ہے۔ جب بندہ دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنے رب کو پکارتا ہے تو وہ اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اصل طاقت، مدد اور اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ قرآن مجید کی روشنی میں دعا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور تمہارا رب فرماتا ہے: مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔" (سورۃ غافر 40:60) یہ آیت ہر مومن کے لیے امید کا پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ خود اپنے بندوں کو دعا کی دعوت دے رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم ہر خوشی اور ہر غم میں انہی کی طرف رجوع کریں۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ...

دل کی پاکیزگی ایمان کی اصل زینت ہے

  دل کی پاکیزگی ایمان کی اصل زینت ہے پاک دل ہی اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے اسلام ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ دل کی اصلاح پر بھی بہت زور دیتا ہے۔ ایک انسان بظاہر عبادت گزار ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس کے دل میں حسد، تکبر، بغض، ریا، کینہ اور نفرت بھری ہو تو اس کی روحانی ترقی رک جاتی ہے۔ اس کے برعکس، جس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت، اخلاص، رحم، عاجزی اور خیر خواہی سے آباد ہو، وہ اپنے رب کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ دل انسان کی پوری زندگی کا مرکز ہے۔ اگر دل درست ہو تو زبان، نگاہ، ہاتھ، قدم اور تمام اعمال بھی درست ہونے لگتے ہیں۔ اسی لیے اسلام ہمیں سب سے پہلے اپنے باطن کو سنوارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں پاک دل کی اہمیت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "جس دن نہ مال فائدہ دے گا اور نہ اولاد، مگر وہ شخص کامیاب ہوگا جو اللہ کے پاس پاکیزہ دل لے کر آئے گا۔" (سورۃ الشعراء 26:88-89) یہ آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ قیامت کے دن دنیاوی کامیابیاں نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی اصل سرمایہ ہوگی۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "بے شک کامیاب وہی ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔" (سورۃ الشمس 91:9) نفس ک...

ذکرِ الٰہی سے دلوں کو حقیقی سکون ملتا ہے

  ذکرِ الٰہی سے دلوں کو حقیقی سکون ملتا ہے اللہ تعالیٰ کا ذکر مومن کی روح کی غذا ہے انسان اپنی پوری زندگی سکون کی تلاش میں گزارتا ہے۔ کوئی دولت میں سکون ڈھونڈتا ہے، کوئی شہرت میں، کوئی اقتدار میں اور کوئی دنیاوی آسائشوں میں۔ لیکن یہ تمام چیزیں وقتی اطمینان تو دے سکتی ہیں، دائمی سکون نہیں۔ حقیقی سکون صرف اس دل کو نصیب ہوتا ہے جو اپنے خالق سے جڑا ہوا ہو اور جس کی زبان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہے۔ ذکرِ الٰہی صرف زبان سے چند کلمات دہرانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں بندہ ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھتا ہے، اس کی نعمتوں کا اعتراف کرتا ہے، اس پر بھروسہ کرتا ہے اور اسی کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے۔ یہی ذکر دل کی سختی کو ختم کرتا، ایمان کو تازگی دیتا اور زندگی کو برکتوں سے بھر دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ذکر کی اہمیت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔" (سورۃ الرعد 13:28) یہ آیت ہر مسلمان کے لیے ایک عظیم حقیقت بیان کرتی ہے کہ اگر دل بے چین ہے، خوف میں مبتلا ہے یا دنیا کی پریشانیوں سے تھک چکا ہے تو اس کا بہتر...