اللہ پر بھروسہ: ایمان کی اصل طاقت
انسان کی زندگی آزمائشوں، خوشیوں، غموں، امیدوں اور مایوسیوں کا مجموعہ ہے۔ ہر شخص اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسے حالات سے گزرتا ہے جہاں اسے اپنے تمام ظاہری وسائل ناکافی محسوس ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں ایک سچا مسلمان جس سہارا کو مضبوطی سے تھامتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ یعنی توکل ہے۔
اللہ تعالیٰ پر بھروسہ صرف زبان سے "میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں" کہنے کا نام نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے یقین رکھنا ہے کہ ہر نفع و نقصان، عزت و ذلت اور کامیابی و ناکامی صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ جب بندہ یہ یقین اپنے دل میں پیدا کر لیتا ہے تو دنیا کے بڑے سے بڑے طوفان بھی اس کے ایمان کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
توکل کا حقیقی مفہوم
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا ہے، حالانکہ اسلام ایسا ہرگز نہیں سکھاتا۔ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ پہلے جائز اسباب اختیار کریں، محنت کریں، منصوبہ بندی کریں اور پھر نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
"اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔"
(سورۃ الطلاق 65:3)
یہ آیت ہر مومن کے دل کو سکون عطا کرتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کا مددگار بن جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
رسول اللہ ﷺ کی تعلیم
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ! کیا میں اپنی اونٹنی کو کھلا چھوڑ کر اللہ پر بھروسہ کروں یا پہلے اسے باندھوں؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"پہلے اسے باندھو، پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔"
(جامع ترمذی)
یہ حدیث ہمیں واضح کرتی ہے کہ اسلام محنت اور توکل دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی تعلیم دیتا ہے۔
مشکلات ایمان کی نشانی ہیں
بہت سے لوگ مصیبت آتے ہی سمجھتے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو آزماتا ہے تاکہ ان کے درجات بلند کرے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف، بھوک، مال، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔"
(سورۃ البقرہ 2:155)
یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، ہمیشہ کی آرام گاہ نہیں۔ اگر مشکلات نہ ہوتیں تو صبر، شکر، دعا اور توکل جیسی عظیم عبادات کیسے ظاہر ہوتیں؟
انبیاء علیہم السلام کی زندگیاں
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینکا گیا، غلام بنایا گیا اور بے گناہ قید میں رکھا گیا۔
حضرت ایوب علیہ السلام برسوں بیماری میں مبتلا رہے۔
رسول اللہ ﷺ نے طائف میں شدید تکالیف برداشت کیں، مکہ میں ظلم و ستم دیکھا اور ہجرت کی سختیاں برداشت کیں۔
اگر اللہ کے سب سے محبوب بندے آزمائشوں سے گزرے تو ہمیں بھی مشکلات پر حیران نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان سے سیکھنا چاہیے کہ ہر آزمائش کے بعد آسانی ضرور آتی ہے۔
دعا مومن کا سب سے مضبوط ہتھیار
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ہر معاملے میں انہی کو پکاریں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"اور تمہارا رب فرماتا ہے: مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔"
(سورۃ غافر 40:60)
دعا صرف ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ بندے اور رب کے درمیان محبت کا رشتہ مضبوط کرتی ہے۔
بعض اوقات دعا فوراً قبول نہیں ہوتی، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دعا رد کر دی۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق کبھی فوراً عطا فرماتے ہیں، کبھی کسی بڑی مصیبت کو دور کر دیتے ہیں اور کبھی آخرت کے لیے اس کا بہترین اجر محفوظ کر دیتے ہیں۔
صبر کی عظمت
صبر اسلام کی عظیم ترین صفات میں سے ایک ہے۔ صبر صرف تکلیف برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہنے کا نام بھی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"
(سورۃ البقرہ 2:153)
یہ کتنی بڑی خوشخبری ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہو تو ہمیں کسی اور سہارے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اس کا ہر معاملہ اس کے لیے خیر ہے۔ اگر اسے خوشی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے، یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔"
(صحیح مسلم)
یہی حقیقی ایمان ہے کہ بندہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی حکمت پر یقین رکھے۔
دنیا عارضی ہے
آج انسان دولت، شہرت، عہدے اور دنیاوی آسائشوں کے پیچھے دوڑ رہا ہے، لیکن یہ سب چند دن کی زندگی تک محدود ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔"
(سورۃ آل عمران 3:185)
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کو چھوڑ دیا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو آخرت کے لیے کھیتی بنایا جائے۔
مسلمان تجارت بھی کرے، تعلیم بھی حاصل کرے، ملازمت بھی کرے اور خاندان کی ذمہ داریاں بھی پوری کرے، لیکن اس کا دل صرف اللہ تعالیٰ سے وابستہ رہے۔
دل کا سکون کہاں ہے؟
آج بے شمار لوگ ہر طرح کی دنیاوی نعمت رکھنے کے باوجود بے سکون ہیں، جبکہ بعض غریب مسلمان محدود وسائل کے باوجود مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔
اس فرق کی وجہ دل کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
"سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔"
(سورۃ الرعد 13:28)
اگر ہم روزانہ قرآن کی تلاوت کریں، پابندی سے نماز ادا کریں، کثرت سے استغفار کریں اور اللہ تعالیٰ کو یاد رکھیں تو دل میں عجیب سکون پیدا ہوتا ہے جسے دنیا کی کوئی دولت نہیں خرید سکتی۔
اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں
شیطان کی سب سے بڑی کوشش یہ ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس کر دے۔
لیکن قرآن ہمیں امید دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔"
(سورۃ الزمر 39:53)
اگر انسان سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے بڑے سے بڑے گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔ اس لیے کبھی بھی ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے مایوس نہ ہوں بلکہ آج ہی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔
عملی زندگی میں ایمان کو مضبوط کیسے کریں؟
پانچ وقت نماز کی پابندی
نماز اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرتی ہے اور گناہوں سے بچاتی ہے۔
روزانہ قرآن کی تلاوت
چاہے چند آیات ہی کیوں نہ ہوں، روزانہ قرآن پڑھنے کی عادت بنائیں اور اس کے مفہوم پر غور کریں۔
استغفار کی کثرت
دن میں کئی مرتبہ "أستغفر الله" پڑھیں۔ استغفار دل کو پاک کرتا اور رزق میں برکت کا سبب بنتا ہے۔
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک
والدین کی خدمت اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے بہترین ذرائع میں سے ہے۔
دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔"
(صحیح مسلم)
اختتامیہ
میرے عزیز مسلمان بھائیو اور بہنو! یاد رکھیں کہ زندگی کا اصل سرمایہ اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان، خالص توکل، صبر، شکر، دعا اور نیک اعمال ہیں۔ دنیا کی ہر خوشی ختم ہو جائے گی، لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے کیا گیا ہر نیک عمل ہمیشہ باقی رہے گا۔
اگر آج آپ کسی مشکل میں ہیں تو اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔ اگر رزق کی تنگی ہے تو دعا، محنت اور توکل اختیار کریں۔ اگر گناہوں کا بوجھ محسوس ہو رہا ہے تو سچی توبہ کریں۔ اگر دل بے سکون ہے تو قرآن اور ذکرِ الٰہی کو اپنا ساتھی بنا لیں۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ اپنے رب کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے رحمت، ہدایت اور آسانیوں کے بے شمار دروازے کھول دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچا ایمان، کامل توکل، ثابت قدمی، اخلاص، صبر اور اپنی دائمی رضا نصیب فرمائے۔ آمین۔
