نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تقویٰ کی روشنی، کامیاب زندگی کا راستہ


 

تقویٰ کی روشنی، کامیاب زندگی کا راستہ

تقویٰ کیا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

اسلام کی تمام تعلیمات کا خلاصہ اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ کا مطلب صرف گناہوں سے بچنا نہیں بلکہ ہر لمحہ یہ احساس رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہے ہیں، ہمارے دلوں کے حال کو جانتے ہیں اور ہمارے ہر عمل کا حساب لیا جائے گا۔ جب یہ احساس انسان کے دل میں مضبوط ہو جاتا ہے تو اس کی سوچ، گفتگو، کردار اور معاملات سب اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہونے لگتے ہیں۔

آج ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں دنیا کی چمک دمک، خواہشات اور مصروفیات نے انسان کو اپنے رب سے غافل کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں تقویٰ ہی وہ روشنی ہے جو انسان کو گمراہی سے بچاتی ہے اور اسے دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرتی ہے۔

قرآن مجید میں تقویٰ کی اہمیت

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔"

(سورۃ الحجرات 49:13)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی عزت اس کے مال، خاندان، رنگ، زبان یا منصب کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔"

(سورۃ الطلاق 65:2-3)

یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ متقی بندے کو وہ ایسی آسانیاں عطا فرماتے ہیں جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔

تقویٰ دل میں پیدا ہوتا ہے

تقویٰ کا تعلق سب سے پہلے دل سے ہے۔ اگر دل پاک ہو جائے تو اعمال بھی درست ہو جاتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تقویٰ یہاں ہے۔"

اور آپ ﷺ نے اپنے مبارک سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ فرمایا۔

(صحیح مسلم)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری عبادت کے ساتھ ساتھ دل کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ حسد، تکبر، بغض، غرور اور ریاکاری دل کو بیمار کر دیتے ہیں، جبکہ اخلاص، محبت، عاجزی اور اللہ تعالیٰ کا خوف دل کو زندہ رکھتے ہیں۔

تقویٰ انسان کے کردار کو بدل دیتا ہے

جب انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور محبت پیدا ہو جاتی ہے تو وہ اکیلے میں بھی گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ صرف لوگوں کے سامنے نیک نہیں بنتا بلکہ تنہائی میں بھی اپنے رب کی نافرمانی سے ڈرتا ہے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے تھے:

"تقویٰ صرف دن بھر روزہ رکھنے اور رات بھر عبادت کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنا اور اس کی نافرمانی سے بچنا ہی حقیقی تقویٰ ہے۔"

یہی وہ صفت ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ بنا دیتی ہے۔

قرآن سے تعلق تقویٰ پیدا کرتا ہے

قرآن مجید تقویٰ پیدا کرنے والی سب سے بڑی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ہدایت قرار دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے متقی لوگوں کے لیے۔"

(سورۃ البقرہ 2:2)

قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ اس پر غور و فکر اور عمل کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ جب ہم روزانہ قرآن پڑھتے ہیں تو اس کی آیات ہمارے دل کو نرم کرتی ہیں، گناہوں سے بچنے کی توفیق دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قریب لے جاتی ہیں۔

نماز تقویٰ کا سب سے بڑا ذریعہ

نماز مومن کی معراج ہے۔ یہ بندے کو دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب کے سامنے کھڑا کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔"

(سورۃ العنکبوت 29:45)

اگر ہماری نماز ہمیں گناہوں سے نہیں روک رہی تو ہمیں اپنی نماز میں خشوع، اخلاص اور توجہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے دنیا کی ہر چیز سے بے نیاز ہو گئے ہوں۔ یہی کیفیت ہر مسلمان کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

زبان کی حفاظت بھی تقویٰ ہے

بہت سے لوگ نماز اور روزے کا اہتمام کرتے ہیں لیکن اپنی زبان کی حفاظت نہیں کرتے۔ غیبت، جھوٹ، بہتان، سخت گفتگو اور دل آزاری ایمان کو کمزور کر دیتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔"

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

اگر ہم صرف اپنی زبان کی حفاظت کرنا سیکھ لیں تو بہت سے گناہوں سے بچ سکتے ہیں۔

استغفار متقی لوگوں کی پہچان ہے

کوئی انسان گناہوں سے مکمل طور پر محفوظ نہیں، لیکن متقی شخص گناہ کے بعد فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور وہ لوگ کہ جب ان سے کوئی بے حیائی کا کام ہو جاتا ہے یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔"

(سورۃ آل عمران 3:135)

استغفار دل کو پاک کرتا ہے، گناہوں کو مٹاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ کرتا ہے۔

اچھے اخلاق تقویٰ کا پھل ہیں

اگر کسی کی عبادت بہت زیادہ ہو لیکن اس کا اخلاق سخت ہو تو اس کی عبادت کا اثر اس کی زندگی میں نظر نہیں آتا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں۔"

(صحیح بخاری)

مسلمان کی پہچان اس کی سچائی، امانت داری، نرم مزاجی، صبر، معافی اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے ہونی چاہیے۔

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔"

(سورۃ الإسراء 17:23)

والدین کی خدمت، ان کے لیے دعا اور ان کی عزت کرنا تقویٰ کی بڑی علامت ہے۔

دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر

ایک متقی مسلمان دنیا میں رہتا ضرور ہے لیکن دنیا کو اپنی منزل نہیں بناتا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے۔"

(جامع ترمذی)

اگر ہر دن چند لمحے ہم اپنی آخرت کے بارے میں سوچیں تو ہمارے فیصلے بہتر ہو جائیں گے، گناہوں سے نفرت پیدا ہوگی اور نیکیوں کی رغبت بڑھے گی۔

تقویٰ پیدا کرنے کے عملی طریقے

پانچ وقت نماز وقت پر ادا کریں

نماز کو صرف فرض سمجھ کر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات سمجھ کر ادا کریں۔

روزانہ قرآن کی تلاوت کریں

چاہے چند آیات ہی کیوں نہ ہوں، لیکن روزانہ قرآن پڑھیں اور اس کے معنی سمجھنے کی کوشش کریں۔

صبح و شام اذکار کا اہتمام کریں

مسنون اذکار انسان کو شیطان کے وسوسوں سے بچاتے ہیں اور دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد تازہ رکھتے ہیں۔

ہر رات اپنا محاسبہ کریں

سونے سے پہلے چند منٹ نکال کر سوچیں کہ آج کون سا کام اللہ تعالیٰ کو پسند آیا اور کس بات پر توبہ کی ضرورت ہے۔

نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں

صالح لوگوں کی مجلس ایمان کو تازہ کرتی ہے، جبکہ برے دوست آہستہ آہستہ انسان کو گناہوں کی طرف لے جاتے ہیں۔

اختتامیہ

میرے محترم مسلمان بھائیو اور بہنو! تقویٰ کوئی مشکل منزل نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے۔ ہر دن اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے زندہ رکھنا، اپنے اعمال کا جائزہ لینا، گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنا اور اخلاص کے ساتھ عبادت کرنا ہی تقویٰ کی راہ ہے۔

یاد رکھیں کہ دنیا کی کامیابی عارضی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے۔ اگر ہمارا دل تقویٰ سے بھر جائے تو مصیبت میں صبر، خوشی میں شکر، گناہ کے بعد توبہ، عبادت میں اخلاص اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک ہماری زندگی کا حصہ بن جائے گا۔ یہی وہ زندگی ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو جنت کی طرف لے جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچا تقویٰ عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو اپنے ذکر سے زندہ رکھے، ہمیں قرآن پر عمل کرنے کی توفیق دے، ہمارے اخلاق کو بہترین بنائے، ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور ہمیں دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی نصیب فرمائے۔ آمین۔