نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اللہ کی رضا: مومن کی سب سے بڑی کامیابی


 

اللہ کی رضا: مومن کی سب سے بڑی کامیابی

اللہ تعالیٰ کی رضا ہی اصل کامیابی ہے

ہر انسان اپنی زندگی میں کامیابی کی تلاش میں رہتا ہے۔ کوئی دولت کو کامیابی سمجھتا ہے، کوئی شہرت کو، کوئی اعلیٰ منصب کو اور کوئی دنیاوی آسائشوں کو۔ لیکن ایک سچے مسلمان کی نظر میں سب سے بڑی کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ دنیا کی ہر کامیابی وقتی ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہمیشہ رہنے والی نعمت ہے۔

جب بندہ اپنے ہر عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا بنا لیتا ہے تو اس کی عبادت، اس کا کاروبار، اس کی ملازمت، اس کے خاندانی تعلقات اور اس کی خدمتِ خلق سب عبادت کا درجہ اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وہ سوچ ہے جو ایک عام زندگی کو بھی روحانی عظمت عطا کر دیتی ہے۔

قرآن مجید کی تعلیم

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور اللہ کی رضا سب سے بڑی نعمت ہے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔"

(سورۃ التوبہ 9:72)

یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جنت کی نعمتیں عظیم ہیں، لیکن ان سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔ جس بندے کو اپنے رب کی خوشنودی حاصل ہو گئی، اس نے حقیقی کامیابی پا لی۔

اخلاص اللہ تعالیٰ کی رضا کا راستہ

اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلی شرط اخلاص ہے۔ عبادت، دعا، صدقہ، خدمت اور ہر نیک عمل صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہونا چاہیے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔"

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

اگر ہماری نیت خالص ہو تو معمولی عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت قیمتی ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر نیت میں ریاکاری یا دنیاوی مفاد شامل ہو جائے تو عمل کی برکت کم ہو جاتی ہے۔

نماز اللہ تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ

نماز وہ عبادت ہے جو بندے کو دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب کے سامنے کھڑا کرتی ہے۔ نماز صرف فرض ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے محبت اور تعلق کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"نماز قائم کرو میری یاد کے لیے۔"

(سورۃ طٰہٰ 20:14)

جو شخص نماز کو اہمیت دیتا ہے، اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے اور گناہوں سے بچنے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔

صبر اور شکر سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں

زندگی میں کبھی خوشی آتی ہے اور کبھی آزمائش۔ مومن کی شان یہ ہے کہ خوشی میں شکر ادا کرتا ہے اور مشکل میں صبر اختیار کرتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔"

(صحیح مسلم)

یہی وہ ایمان ہے جو انسان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے جوڑے رکھتا ہے۔

لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک بھی عبادت ہے

کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ عبادت صرف نماز اور روزے تک محدود ہے، حالانکہ اسلام میں اچھا اخلاق بھی عظیم عبادت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں۔"

(صحیح بخاری)

نرم گفتگو، وعدہ پورا کرنا، امانت کی حفاظت کرنا، دوسروں کی مدد کرنا اور معاف کر دینا ایسے اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں۔

والدین کی رضا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔"

(سورۃ الإسراء 17:23)

والدین کی خدمت، ان کے لیے دعا اور ان کا احترام کرنا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے بہترین ذرائع میں سے ہے۔

قرآن سے تعلق مضبوط کریں

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ یہ صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل دستور ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لیے۔"

(سورۃ البقرہ 2:2)

روزانہ قرآن کی تلاوت اور اس کے معنی پر غور کرنے سے ایمان تازہ ہوتا ہے، دل کو سکون ملتا ہے اور صحیح فیصلے کرنے کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔

استغفار اور دعا کی طاقت

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ہر حال میں اسی سے دعا کریں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔"

(سورۃ غافر 40:60)

اسی طرح استغفار انسان کے گناہوں کو دھوتا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ کرتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ روزانہ کثرت سے استغفار فرمایا کرتے تھے، حالانکہ آپ ﷺ معصوم تھے۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں بھی ہر روز اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے۔

دنیا کو منزل نہ بنائیں

دنیا عارضی ہے، جبکہ آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ایک مومن دنیا میں رہتا ہے، محنت کرتا ہے، رزق کماتا ہے، لیکن اس کا دل آخرت کی کامیابی سے وابستہ رہتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"دنیا میں ایسے رہو جیسے تم اجنبی ہو یا مسافر۔"

(صحیح بخاری)

یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری اصل منزل اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے عملی طریقے

نماز کو وقت پر ادا کریں

ہر نماز کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کریں اور اسے اپنی زندگی کی اولین ترجیح بنائیں۔

روزانہ قرآن پڑھیں

چند آیات ہی سہی، لیکن روزانہ قرآن کی تلاوت اور اس پر غور کرنے کی عادت اپنائیں۔

لوگوں کے لیے آسانی پیدا کریں

کسی کی مدد کرنا، مسکرانا، سلام میں پہل کرنا اور ضرورت مند کا ہاتھ تھامنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔

اپنے دل کا محاسبہ کریں

ہر رات چند لمحے نکال کر سوچیں کہ آج کون سا عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق تھا اور کہاں اصلاح کی ضرورت ہے۔

ہر حال میں دعا کریں

خوشی ہو یا غم، آسانی ہو یا مشکل، اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھیں۔ جو بندہ اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے، وہ کبھی تنہا نہیں رہتا۔

اختتامیہ

میرے عزیز مسلمان بھائیو اور بہنو! زندگی کی اصل کامیابی نہ دولت میں ہے، نہ شہرت میں اور نہ ہی دنیاوی مقام میں۔ حقیقی کامیابی اس دل کو حاصل ہوتی ہے جو اپنے رب کی محبت سے آباد ہو، جس کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہے، جس کے اعمال اخلاص سے بھرے ہوں اور جس کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔

آئیے آج یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے گزاریں گے۔ نماز کی حفاظت کریں گے، قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں گے، والدین کی خدمت کریں گے، لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کریں گے، کثرت سے استغفار کریں گے اور ہر حال میں اپنے رب پر بھروسہ رکھیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا نصیب فرمائے، ہمارے اعمال میں اخلاص عطا کرے، ہمارے دلوں کو ایمان کے نور سے منور فرمائے، ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطا کرے اور قیامت کے دن ہمیں اپنے خاص بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔