اللہ کی معیت... جب بندہ اپنے رب کو ہر لمحہ اپنے ساتھ محسوس کرتا ہے
زندگی کے سفر میں ایسے بہت سے لمحے آتے ہیں جب انسان خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ کبھی مشکلات دل پر بوجھ بن جاتی ہیں، کبھی مستقبل کی فکر بے چین کر دیتی ہے، کبھی اپنے ہی لوگ سمجھ نہیں پاتے، اور کبھی انسان اپنے دل کی کیفیت کسی سے بیان بھی نہیں کر پاتا۔
لیکن ایک مومن کے لیے ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر اندھیرے کو روشنی میں بدل سکتی ہے، اور وہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے غافل نہیں ہے۔ وہ ہر لمحہ ان کو دیکھ رہا ہے، ان کی بات سن رہا ہے، ان کے دل کی کیفیت جانتا ہے، اور اپنی حکمت و رحمت کے ساتھ ان کی زندگی چلا رہا ہے۔
جب یہ یقین دل میں راسخ ہو جائے تو خوف کم ہونے لگتا ہے، امید بڑھنے لگتی ہے، اور انسان ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے لگتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں بھی تم ہو۔"
(سورۂ الحدید: 4)
یہ آیت مومن کے لیے بہت بڑی تسلی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ اپنی ذات کے ساتھ مخلوق میں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے علم، اپنی قدرت، اپنی رحمت اور اپنی نگرانی کے ساتھ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ کوئی آنسو، کوئی دعا، کوئی فکر اور کوئی نیکی اس سے پوشیدہ نہیں۔
اللہ ہمیں ہم سے زیادہ جانتا ہے
دنیا میں بعض اوقات ہم خود بھی اپنے دل کی کیفیت کو پوری طرح نہیں سمجھ پاتے، لیکن ہمارا رب ہمیں ہماری اپنی ذات سے بھی زیادہ جانتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم جانتے ہیں جو اس کا نفس اس سے باتیں کرتا ہے، اور ہم اس کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔"
(سورۂ ق: 16)
یہ قرب اللہ کے علم اور احاطے کا قرب ہے۔ وہ ہمارے خوف کو جانتا ہے، ہماری امیدوں کو جانتا ہے، ہمارے دل کی خاموش دعاؤں کو جانتا ہے۔
اس لیے مومن کبھی مکمل طور پر تنہا نہیں ہوتا۔
جب دل اللہ کے ساتھ جڑ جاتا ہے
انسان بہت سے سہاروں پر بھروسہ کرتا ہے۔
مال ختم ہو سکتا ہے۔
دوست جدا ہو سکتے ہیں۔
صحت بدل سکتی ہے۔
لیکن اللہ کبھی اپنے بندے کو چھوڑتا نہیں۔
اسی لیے قرآن ہمیں بار بار اللہ پر توکل کی دعوت دیتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اور جو اللہ پر بھروسہ کرے، تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔"
(سورۂ الطلاق: 3)
یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ پورا طرزِ زندگی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اسباب اختیار نہ کرے، بلکہ یہ کہ اسباب اختیار کرتے ہوئے دل کا سہارا صرف اللہ ہو۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یقین
قرآن میں ایک نہایت خوبصورت منظر بیان ہوا ہے۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ سمندر کے کنارے پہنچے اور پیچھے فرعون کا لشکر آ گیا تو بنی اسرائیل گھبرا گئے۔
انہوں نے کہا:
"ہم تو پکڑے گئے۔"
لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
"ہرگز نہیں! یقیناً میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔"
(سورۂ الشعراء: 61-62)
یہی ایمان کا حسن ہے۔
جب ہر طرف راستے بند نظر آئیں، تب بھی مومن جانتا ہے کہ اللہ کے لیے کوئی راستہ بند نہیں۔
اور پھر اللہ نے سمندر کو چیر دیا، اور وہیں سے نجات کا راستہ پیدا کر دیا جہاں انسانی عقل کوئی راستہ نہیں دیکھ رہی تھی۔
دعا... اللہ کی معیت کو محسوس کرنے کا ذریعہ
جب بندہ دعا کرتا ہے تو وہ صرف اپنی حاجت بیان نہیں کرتا، بلکہ اپنے رب سے تعلق کو تازہ کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دیجیے) بے شک میں بہت قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔"
(سورۂ البقرہ: 186)
کتنی بڑی نعمت ہے کہ اللہ ہمیں خود اپنی طرف بلاتا ہے۔
وہ انتظار نہیں کرتا کہ ہم کامل بن جائیں۔
بلکہ جب ہم کمزور ہوتے ہیں، تب بھی اس کا دروازہ ہمارے لیے کھلا رہتا ہے۔
اللہ کی محبت بندے کے لیے
بعض لوگ اللہ سے محبت کی بات تو کرتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ بھی اپنے نیک بندوں سے محبت فرماتا ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"بے شک اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔"
(سورۂ البقرہ: 195)
ایک اور جگہ فرمایا:
"بے شک اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔"
(سورۂ البقرہ: 222)
یہ آیات ہمیں امید دیتی ہیں۔
اگر ہم گناہ کے بعد سچے دل سے توبہ کریں، تو اللہ ہمیں دھتکارتا نہیں، بلکہ اپنی محبت عطا فرماتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی تعلیم
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی گم شدہ سواری اسے اچانک صحرا میں واپس مل جائے۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث اللہ کی بے مثال رحمت کو ہمارے سامنے لاتی ہے۔
ہم کبھی کبھی سمجھتے ہیں کہ شاید اللہ ہمیں معاف نہیں کرے گا، لیکن رسول اللہ ﷺ ہمیں امید دلاتے ہیں کہ اللہ اپنے بندے کی واپسی پر خوش ہوتا ہے۔
بزرگوں کی حکمت
امام عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:
"جب تم اللہ کو اپنا حقیقی سہارا بنا لو گے تو تمہارا دل مخلوق کے خوف سے آزاد ہو جائے گا۔"
اور امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے تھے:
"جس نے اللہ کو پہچان لیا، اس کے لیے دنیا کی مصیبتیں ہلکی ہو گئیں۔"
یہ اقوال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل سکون حالات کے بدلنے میں نہیں بلکہ دل کے اللہ سے جڑنے میں ہے۔
اللہ کی معیت کو کیسے محسوس کریں؟
یہ کیفیت اچانک پیدا نہیں ہوتی بلکہ آہستہ آہستہ دل میں مضبوط ہوتی ہے۔
چند آسان عادتیں اس سفر میں مددگار بن سکتی ہیں:
ہر روز قرآنِ کریم کی چند آیات ترجمے کے ساتھ پڑھیں۔
صبح و شام اللہ کا ذکر کریں۔
پانچوں نمازوں کو اپنی زندگی کا مرکز بنائیں۔
ہر دن کچھ لمحے خاموشی سے اللہ سے دعا کریں۔
اپنی نعمتوں کو یاد کریں اور "الحمد للہ" دل سے کہیں۔
استغفار کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔
لوگوں کے ساتھ نرمی اور رحم کا معاملہ کریں، کیونکہ اللہ رحم کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
ہر مشکل میں خود سے کہیں: "میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا۔"
یہ چھوٹے چھوٹے اعمال وقت کے ساتھ دل کو مضبوط، نرم اور اللہ کے قریب بنا دیتے ہیں۔
ہر دن اللہ کے ساتھ شروع کریں
صبح آنکھ کھلتے ہی چند لمحے اللہ کو یاد کریں۔
اس سے پہلے کہ دنیا کی مصروفیات آپ کے دل پر چھا جائیں، اپنے رب سے تعلق تازہ کر لیں۔
اس کا شکر ادا کریں کہ اس نے ایک اور دن عطا فرمایا۔
اس سے ہدایت مانگیں۔
اس سے حفاظت مانگیں۔
اور اس سے یہ دعا کریں کہ آج کا دن اس کی رضا والا دن بن جائے۔
جب دن کی ابتدا اللہ کے ذکر سے ہوتی ہے تو دل میں ایک عجیب سکون اترنے لگتا ہے، اور انسان دنیا کے کام بھی زیادہ اطمینان سے انجام دیتا ہے۔
اختتامیہ
میرے عزیز بھائی، میری محترم بہن، اگر کبھی زندگی کا راستہ مشکل محسوس ہو، تو یہ یاد رکھیے کہ آپ کا رب آپ کو بھولا نہیں ہے۔ وہ آپ کی ہر دعا سنتا ہے، ہر آنسو کو جانتا ہے، ہر امید کو دیکھتا ہے، اور ہر قدم پر اپنی حکمت کے ساتھ آپ کی رہنمائی کرتا ہے۔ شاید ہم ہر فیصلے کی وجہ فوراً نہ سمجھ سکیں، لیکن مومن کا دل اس یقین سے روشن رہتا ہے کہ اللہ کبھی اپنے بندے کے ساتھ ظلم نہیں کرتا، بلکہ ہمیشہ وہی فیصلہ فرماتا ہے جس میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہو۔
آئیے ہم اپنے دلوں کو اللہ کی یاد سے آباد کریں، قرآن کو اپنا ساتھی بنائیں، دعا کو اپنی طاقت بنائیں، اور ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ جب بندہ اپنے رب کو ہر لمحہ اپنے ساتھ محسوس کرنے لگتا ہے تو تنہائی قرب میں بدل جاتی ہے، خوف اطمینان میں، اور آزمائش اللہ کی محبت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی معرفت عطا فرمائے، اپنے ذکر کی لذت نصیب فرمائے، اپنے اوپر کامل بھروسہ عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو ایمان کے نور سے بھر دے، ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں زندگی گزارنے کی توفیق دے، اور قیامت کے دن اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما کر جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔
