قرآن عربی میں کیوں نازل ہوا؟
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جو انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا۔ یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ہمارے رب کی طرف سے ہمارے دلوں کے لیے پیغام ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا، اور اس کا کلام اپنی فصاحت، بلاغت، معنی کی گہرائی اور بے مثال اسلوب میں معجزہ ہے۔ لیکن اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری نہیں کہ ہم سب عربی کے ماہر ہوں۔ عام مسلمان بھی قرآن کے حسن، عظمت اور ہدایت کو اپنے دل میں جگہ دے سکتا ہے۔
قرآن خود فرماتا ہے: “بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھو۔” (یوسف 12:2)۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ قرآن عربی زبان میں واضح اور صاف ہے۔ (الشعراء 26:195)
یہ بات ہمیں ایک خوبصورت حقیقت کی طرف لے جاتی ہے: قرآن عربی میں نازل ہوا، لیکن اس کا پیغام پوری انسانیت کے لیے ہے۔
قرآن عربی میں کیوں نازل ہوا؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن کے لیے عربی زبان کا انتخاب اپنی حکمت سے فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ عرب تھے، آپ کی پہلی قوم عرب تھی، اور وحی انہی کے درمیان ان کی معروف زبان میں نازل ہوئی۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ اپنی قوم کے لیے بات واضح کر سکے۔ (ابراہیم 14:4)
اس لیے قرآن کا عربی میں نازل ہونا اس کی ہدایت کو کسی ایک قوم تک محدود نہیں کرتا۔ جیسے سورج کی روشنی کسی ایک شہر کی ملکیت نہیں ہوتی، اسی طرح قرآن کا پیغام بھی کسی ایک نسل، قوم یا زبان کے لیے نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔” (سبأ 34:28)
رسول اللہ ﷺ کی بعثت پوری انسانیت کے لیے ہے، اور قرآن اسی عالمی دعوت کا بنیادی پیغام ہے۔
قرآن کا عربی کلام بے مثال کیوں ہے؟
قرآن کے اعجاز کا مطلب یہ ہے کہ انسان قرآن جیسا کلام پیش کرنے سے عاجز ہے۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ قرآن بہت خوبصورت عربی میں ہے، بلکہ اس کے الفاظ، معانی، ترتیب، اسلوب، تاثیر اور ہدایت ایک ایسی جامع خصوصیت رکھتے ہیں جس کی مثال انسانی کلام میں نہیں ملتی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“کہہ دیجیے: اگر انسان اور جن سب مل کر اس قرآن جیسا لانے پر جمع ہوجائیں تو اس جیسا نہیں لا سکتے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔” (الإسراء 17:88)
امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ اگر انسان اور جن سب ایک دوسرے کی مدد کریں تب بھی قرآن جیسا کلام پیش نہیں کرسکتے۔ وہ اس فرق کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ مخلوق کا کلام خالق کے کلام کے برابر نہیں ہوسکتا۔
یہ قرآن کے اعجاز کا ایک بنیادی پہلو ہے۔
قرآن نے انسانوں کو چیلنج کیوں دیا؟
قرآن کا چیلنج صرف یہ نہیں تھا کہ “پورا قرآن بنا کر لاؤ۔” قرآن نے مختلف مقامات پر چیلنج کو مختصر بھی کیا۔ سورۂ ہود میں فرمایا گیا کہ اگر لوگ اس کے بارے میں شک میں ہیں تو اس جیسی صرف دس سورتیں لے آئیں۔ (ہود 11:13) پھر سورۂ یونس میں ایک سورت جیسی سورت لانے کا چیلنج دیا گیا۔ (یونس 10:38)
یہ چیلنج اس زمانے میں خاص معنی رکھتا تھا جب عرب زبان، شعر، خطابت اور فصاحت میں بہت آگے تھے۔ ان کے ہاں زبان صرف گفتگو کا ذریعہ نہیں تھی؛ شعر اور خطابت عزت، شہرت اور سماجی مقام کا ذریعہ بھی تھے۔
اس ماحول میں قرآن کا آنا اور پھر انسانوں کو اس جیسا کلام پیش کرنے کا چیلنج دینا ایک غیر معمولی امر تھا۔ کلاسیکی مفسر امام طبری رحمہ اللہ نے سورۂ الإسراء 17:88 کی تفسیر میں اسی چیلنج کی وضاحت کی ہے۔
قرآن کی عظمت صرف عربی جاننے والوں کے لیے نہیں
یہاں ایک اہم بات دل میں بٹھانا ضروری ہے۔
اگر آپ عربی نہیں جانتے تو قرآن سے محروم نہ ہوں۔
اگر آپ عربی پڑھتے ہوئے رک رک جاتے ہیں تو قرآن چھوڑ نہ دیں۔
اگر آپ ابھی صرف چند سورتیں جانتے ہیں تو اپنے آپ کو کم تر نہ سمجھیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کی نیت، کوشش اور شوق کو دیکھتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص قرآن پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز نیک فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو شخص قرآن پڑھتے ہوئے اٹکتا ہے اور اس کے لیے یہ مشقت کا باعث ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں۔ (صحیح مسلم، 798)
کتنی امید کی بات ہے۔ جو شخص خوبصورت تلاوت کرتا ہے، اس کے لیے اجر ہے؛ اور جو سیکھنے کی کوشش میں مشکل محسوس کرتا ہے، اس کے لیے بھی اجر ہے۔
لہٰذا اپنی کمزوری کو قرآن سے دوری کا سبب نہ بنائیں۔ اسے قرآن کے قریب آنے کا سبب بنائیں۔
قرآن پڑھنا صرف عربی الفاظ پڑھنا نہیں
قرآن کی تلاوت بہت بڑی عبادت ہے، لیکن قرآن کا مقصد صرف الفاظ پڑھ لینا نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“یہ ایک بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں اور عقل والے نصیحت حاصل کریں۔” (ص 38:29)
یعنی قرآن ہمیں سوچنے، سمجھنے اور اپنی زندگی بدلنے کی دعوت دیتا ہے۔
جب آپ سورۂ الفاتحہ پڑھیں تو صرف الفاظ نہ پڑھیں؛ یہ بھی سوچیں کہ آپ اپنے رب سے بات کر رہے ہیں۔ جب آپ “الحمدللہ رب العالمین” کہیں تو اپنے رب کی نعمتوں کو یاد کریں۔ جب “اهدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِيمَ” کہیں تو دل سے ہدایت مانگیں۔
اس طرح قرآن آہستہ آہستہ ہمارے لیے زندہ پیغام بننے لگتا ہے۔
عربی سیکھنا ایک خوبصورت سفر ہے
اگر آپ عربی نہیں جانتے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن سمجھنے کے لیے ایک ہی دن میں عربی کا ماہر بننا ضروری نہیں۔
روزانہ چند منٹ نکالیے۔ قرآن کے عام الفاظ سیکھیے۔ چھوٹی سورتوں کے معانی سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ کسی معتبر استاد سے تجوید سیکھیے۔ ترجمہ پڑھتے ہوئے تفسیر کی مدد لیجیے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔” (صحیح بخاری، 5027)
غور کیجیے کہ نبی ﷺ نے صرف “جو قرآن جانتا ہے” نہیں فرمایا، بلکہ “جو سیکھتا ہے” فرمایا۔ اس میں ہمارے لیے بہت امید ہے۔
سیکھنے والا بھی اللہ کے نزدیک قدر رکھتا ہے۔
قرآن پڑھنے کا ہر حرف قیمتی ہے
رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے کہ جو شخص اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھتا ہے، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی دس گنا تک بڑھائی جاتی ہے۔ حدیث میں مثال دی گئی کہ “الم” کو ایک حرف نہ سمجھو، بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔ یہ روایت جامع ترمذی 2910 میں ہے، جسے امام ترمذی نے حسن صحیح کہا۔
اس حدیث کو اپنے لیے حوصلہ بنائیے۔
آپ کی تلاوت شاید مختصر ہو، مگر بے قیمت نہیں۔
آپ کی کوشش شاید دوسروں کے مقابلے میں کم ہو، مگر اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتی۔
قرآن کا ایک صفحہ، چند آیات، حتیٰ کہ چند حروف بھی آپ کو اپنے رب کے قریب لے جا سکتے ہیں۔
قرآن دل کو سکون کیوں دیتا ہے؟
ہم میں سے ہر شخص کبھی نہ کبھی پریشان ہوتا ہے۔ کبھی مستقبل کا خوف، کبھی رزق کی فکر، کبھی رشتوں کا دکھ اور کبھی اپنے گناہوں کا بوجھ دل کو تھکا دیتا ہے۔
ایسے وقت میں قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:
“خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔” (الرعد 13:28)
قرآن ہمیں ہماری حقیقت یاد دلاتا ہے۔ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ ہمارا رب ہمیں جانتا ہے۔ وہ ہماری کمزوریوں سے واقف ہے۔ وہ ہماری دعائیں سنتا ہے۔ وہ توبہ کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔
اسی لیے قرآن صرف معلومات کی کتاب نہیں؛ یہ دل کی تربیت کی کتاب ہے۔
قرآن کے ساتھ تعلق کیسے مضبوط کریں؟
قرآن سے تعلق بنانے کے لیے ایک آسان معمول اختیار کیا جا سکتا ہے۔ روزانہ ایک مقرر وقت نکالیں۔ چاہے دس منٹ ہی ہوں۔ پہلے تلاوت کریں، پھر ترجمہ پڑھیں، پھر ایک آیت پر چند لمحے غور کریں۔
خود سے پوچھیں: “یہ آیت مجھے کیا سکھا رہی ہے؟ میرے رب نے مجھے اس میں کیا یاد دلایا ہے؟ میری زندگی میں کون سی تبدیلی کی ضرورت ہے؟”
کبھی ایک آیت پوری زندگی کا رخ بدل دیتی ہے۔
قرآن کے ساتھ تعلق مقدار سے زیادہ اخلاص اور تسلسل سے مضبوط ہوتا ہے۔ آج بہت زیادہ پڑھ کر کل چھوڑ دینے کے بجائے روز تھوڑا پڑھنا زیادہ مفید معمول بن سکتا ہے۔
قرآن سے محبت کا مطلب کیا ہے؟
قرآن سے محبت صرف خوبصورت غلاف رکھنے یا اسے احترام سے اونچی جگہ رکھنے کا نام نہیں، اگرچہ قرآن کا ادب ضرور ضروری ہے۔ قرآن سے حقیقی محبت یہ ہے کہ ہم اسے پڑھیں، سمجھیں، اس پر غور کریں اور اپنی زندگی کو اس کی ہدایت کے مطابق بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
جب قرآن ہمیں صبر کا حکم دے تو ہم صبر سیکھیں۔
جب معافی کی تعلیم دے تو معاف کرنے کی کوشش کریں۔
جب والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دے تو اپنے گھر سے آغاز کریں۔
جب اللہ پر توکل کا درس دے تو خوف کے باوجود رب پر اعتماد کریں۔
تب قرآن ہماری الماری میں موجود کتاب نہیں رہتا؛ وہ ہماری زندگی کا رہنما بن جاتا ہے۔
آج سے قرآن کے ساتھ ایک نیا سفر شروع کریں
اگر آپ پہلے ہی قرآن کے ساتھ مضبوط تعلق رکھتے ہیں تو اللہ کا شکر ادا کیجیے اور اس تعلق کو مزید خوبصورت بنائیے۔
اگر آپ قرآن پڑھتے ہیں مگر سمجھتے کم ہیں تو ترجمہ اور معتبر تفسیر کے ساتھ پڑھنا شروع کیجیے۔
اگر آپ عربی پڑھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں تو ہمت نہ ہاریے۔
اگر کبھی قرآن سے دوری ہوگئی ہے تو واپس آجائیے۔
اللہ کا کلام آپ کا انتظار نہیں کرتا کہ آپ پہلے کامل بنیں، بلکہ قرآن خود آپ کو بہتر بنانے کے سفر میں مدد دیتا ہے۔
ہم سب کو قرآن کی ضرورت ہے۔ عالم کو بھی، طالب علم کو بھی، بزرگ کو بھی، نوجوان کو بھی، ابتدائی مسلمان کو بھی اور برسوں سے عبادت کرنے والے مومن کو بھی۔
قرآن عربی میں نازل ہوا، اس کی زبان معجزانہ ہے، اس کا کلام بے مثال ہے، لیکن اس کی ہدایت ہمارے دلوں کے لیے ہے۔
آئیے، قرآن کو صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ رب کی طرف سے محبت بھرا پیغام سمجھ کر پڑھیں۔ عربی سیکھنے کی کوشش کریں، مگر جب تک عربی مکمل نہ آئے، قرآن سے دور نہ ہوں۔ تلاوت کریں، ترجمہ پڑھیں، معتبر اہلِ علم سے سمجھیں، غور کریں اور پھر اپنی زندگی میں ایک ایک قدم تبدیلی لائیں۔
شاید آج آپ صرف چند آیات پڑھیں۔ شاید آپ کو ان کے سارے الفاظ سمجھ نہ آئیں۔ لیکن اخلاص سے اٹھایا ہوا یہ چھوٹا قدم اللہ کے ہاں بہت قیمتی ہوسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو قرآن سے زندہ کرے، ہمیں اس کی عربی سمجھنے کی توفیق دے، اس کی تلاوت سے محبت عطا فرمائے، اس کی ہدایت پر چلنے والا بنائے، اور قرآن کو دنیا میں ہمارے لیے نور، سکون اور آخرت میں ہمارے لیے نجات کا ذریعہ بنائے۔
یا اللہ! ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے، اس پر غور کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے والوں میں شامل فرما۔ آمین۔
Please read similar posts at https://drlal.nl
