رحمت کریں، رحمت پائیں
رحمت: اسلام کی خوبصورت روح
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔” یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اور امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔ Sunnah
یہ چند الفاظ ہماری پوری زندگی کے لیے ایک نرم مگر گہرا راستہ دکھاتے ہیں۔
رحمت صرف کسی بڑے موقع پر کیا جانے والا نیک عمل نہیں۔ رحمت ہماری روزمرہ زندگی کا انداز بن سکتی ہے۔ گھر میں، بازار میں، مسجد میں، کام کی جگہ پر، بچوں کے ساتھ، والدین کے ساتھ، شریکِ حیات کے ساتھ، پڑوسیوں کے ساتھ، بلکہ ان لوگوں کے ساتھ بھی جن سے ہماری رائے مختلف ہو۔
اسلام ہمیں صرف یہ نہیں سکھاتا کہ اللہ سے رحمت مانگو۔ اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اللہ کی مخلوق کے لیے رحمت کا ذریعہ بنو۔
شاید کبھی ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جس رحمت کی ہمیں خود ہر لمحہ ضرورت ہے، وہی رحمت ہمیں دوسروں تک پہنچانی بھی ہے۔
اللہ کی رحمت ہماری سوچ سے کہیں وسیع ہے
اللہ تعالیٰ کے خوبصورت ناموں میں الرحمن اور الرحیم شامل ہیں۔ قرآن ہمیں بار بار اللہ کی رحمت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔”
(سورۃ الاعراف 7:156)
یہ آیت دل کے لیے بڑی امید رکھتی ہے۔
ہم اپنی غلطیوں کو دیکھتے ہیں، اللہ اپنی رحمت کو جانتا ہے۔
ہم اپنی کمزوریوں کو دیکھتے ہیں، اللہ ہمارے دلوں کو جانتا ہے۔
ہم سوچتے ہیں کہ ہم کتنی بار ناکام ہوئے، مگر اللہ جانتا ہے کہ ہم کتنی بار اس کی طرف واپس آنا چاہتے تھے۔
اسی لیے ایک مسلمان کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ (سورۃ الزمر 39:53) Quran.com
یہ ناامیدی کے خلاف قرآن کا بہت بڑا پیغام ہے۔
رسول اللہ ﷺ رحمت بن کر آئے
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کے بارے میں فرمایا:
“اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔”
(سورۃ الانبیاء 21:107) Quran.com
ذرا غور کیجیے۔
تمام جہانوں کے لیے رحمت۔
یعنی رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں عبادت بھی ہے، عدل بھی، اخلاق بھی، صبر بھی، معافی بھی، نرمی بھی اور مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک بھی۔
اس لیے جب ہم سنت کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو صرف ظاہری اعمال پر توجہ نہ دیں۔ اپنے رویے کو بھی دیکھیں۔
کیا ہماری موجودگی سے دوسروں کو سکون ملتا ہے؟
کیا ہمارے گھر والے ہمارے پاس اپنی پریشانی بیان کر سکتے ہیں؟
کیا ہماری زبان کسی ٹوٹے ہوئے دل کو مزید توڑتی ہے یا اسے سہارا دیتی ہے؟
کیا ہمارے بچے ہم سے ڈرتے زیادہ ہیں یا ہمارے پاس آ کر محفوظ محسوس کرتے ہیں؟
یہ سوالات ہمارے لیے خود احتسابی کا خوبصورت ذریعہ بن سکتے ہیں۔
رحمت کا مطلب کمزوری نہیں
بعض اوقات ہم سمجھتے ہیں کہ نرم ہونا کمزور ہونا ہے۔
ہم کہتے ہیں، “اگر میں زیادہ معاف کروں گا تو لوگ میرا فائدہ اٹھائیں گے۔”
یہ بات ہر حال میں درست نہیں۔
رحمت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ظلم کو قبول کر لے۔ رحمت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر غلط کام کو درست قرار دے دیا جائے۔
کبھی رحمت کا مطلب معاف کرنا ہوتا ہے۔
کبھی مناسب حد قائم کرنا ہوتا ہے۔
کبھی کسی کو غلطی سے روکنا ہوتا ہے۔
کبھی کسی بچے کو محبت سے سمجھانا ہوتا ہے۔
کبھی کسی سے فاصلہ رکھنا ہوتا ہے تاکہ ظلم مزید نہ بڑھے۔
اور کبھی خاموش رہنا بھی رحمت ہوتا ہے۔
رحمت حکمت کے ساتھائے گئے۔ ان میں ایک عورت اپنے بچے کو تلاش کر رہی تھی۔ جب اسے کوئی بچہ ملتا تو وہ اسے اپنے سینے سے لگا کر دودھ پلاتی۔ آخرکار اسے اپنا بچہ چلتی ہے۔
ہمیں نرم دل ہونا ہے، مگر بے بصیرت نہیں۔ ہمیں معاف کرنے والا ہونا ہے، مگر ظلم کو بڑھانے والا نہیں۔
اللہ کی رحمت کو یاد کرنے کا ایک عظیم واقعہ
صحیح بخاری میں ایک نہایت مؤثر واقعہ آتا ہے۔
کچھ قیدی رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے گئے۔ ان میں ایک عورت اپنے بچے کو تلاش کر رہی تھی۔ جب اسے کوئی بچہ ملتا تو وہ اسے اپنے سینے سے لگا کر دودھ پلاتی۔ آخرکار اسے اپنا بچہ مل گیا اور اس نے اسے سینے سے لگا لیا۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ کیا یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے؟
انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔
تب نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس عورت سے بھی زیادہ رحم فرمانے والا ہے جتنا وہ اپنے بچے پر رحم کرتی ہے۔ یہ حدیث صحیح بخاری میں مروی ہے۔ Sunnah
ذرا اس حقیقت کو اپنے دل میں جگہ دیجیے۔
اگر ایک ماں کی محبت ہمیں اتنی بڑی محسوس ہوتی ہے، تو اللہ کی رحمت کتنی وسیع ہوگی؟
ہم شاید اپنے بارے میں سخت فیصلے کرتے ہیں۔
“میں بہت خراب ہوں۔”
“مجھ سے بہت گناہ ہو گئے ہیں۔”
“شاید اللہ مجھے معاف نہیں کرے گا۔”
لیکن مومن کے لیے توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا جب تک اللہ نے اسے بند نہ کیا ہو۔
رحمت گھر سے شروع ہوتی ہے
ہم دنیا کے مظلوموں کے لیے دعا کرتے ہیں، اور یہ بہت اچھی بات ہے۔
لیکن رحمت کا پہلا میدان اکثر ہمارا اپنا گھر ہوتا ہے۔
والدین کے ساتھ ہمارا لہجہ کیسا ہے؟
کیا ہم ان کی عمر اور کمزوری کو سمجھتے ہیں؟
شریکِ حیات کی ایک غلطی پر ہمارا ردعمل کیا ہوتا ہے؟
بچے سے غلطی ہو جائے تو ہم اسے اصلاح کا موقع دیتے ہیں یا صرف شرمندہ کرتے ہیں؟
کبھی ایک تھکا ہوا شوہر یا بیوی صرف یہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کی بات سن لے۔
کبھی ایک بچہ شرارت نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ توجہ مانگ رہا ہوتا ہے۔
کبھی والدین بار بار ایک ہی بات اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں تنہائی محسوس ہوتی ہے۔
رحمت کا مطلب ہے کہ ہم صرف الفاظ نہ سنیں، دل کی حالت بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔
چھوٹی چھوٹی رحمتیں بڑی بن سکتی ہیں
رحمت ہمیشہ بڑے کاموں کا نام نہیں۔
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا۔
کسی ضرورت مند کو کھانا دینا۔
کسی بوڑھے شخص کے لیے دروازہ کھول دینا۔
کسی پریشان انسان کی بات سن لینا۔
کسی ملازم سے عزت سے بات کرنا۔
جانور کو پانی دے دینا۔
کسی کی غلطی پر فوراً غصہ نہ کرنا۔
کسی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرنا۔
یہ سب چھوٹے کام نظر آ سکتے ہیں، مگر اللہ کے ہاں اخلاص کے ساتھ کیا گیا کوئی نیک عمل معمولی نہیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں میں رحمت صرف انہی کے لیے رکھتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔ یہ مضمون صحیح بخاری کی حدیث میں واضح طور پر آتا ہے۔ Sunnah
ایک آسان عمل آج سے شروع کریں
آج صرف ایک کام کیجیے۔
کسی ایک شخص کے ساتھ جان بوجھ کر رحمت کا معاملہ کیجیے۔
ممکن ہے وہ شخص آپ کے گھر میں ہو۔
اسے توجہ سے سنیں۔
ممکن ہے کوئی ایسا ہو جس سے آپ ناراض ہیں۔
اس کے لیے دل میں بددعا کے بجائے ہدایت اور خیر کی دعا کریں۔
ممکن ہے آپ خود ہوں۔
اپنے آپ سے بھی رحمت کریں۔
اپنی غلطی کو تسلیم کریں، توبہ کریں، پھر دوبارہ کوشش کریں۔
اپنے ماضی کو اپنے خلاف دائمی مقدمہ نہ بنائیں۔
اللہ کے سامنے جھکنا ذلت نہیں۔ یہی تو عزت کا راستہ ہے۔
رحمت ہمیں اللہ کے قریب کرتی ہے
جب ہم کسی پر رحم کرتے ہیں تو ہم صرف ایک انسان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہے ہوتے۔
ہم اپنے دل کو اللہ کے ایک عظیم نام کی یاد دلا رہے ہوتے ہیں: الرحمن، الرحیم۔
ہم اپنی مخلوق کے ساتھ رحم کرتے ہوئے اس رحمت کی محتاجی کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں جو ہر لمحہ ہمیں گھیرے ہوئے ہے۔
ہم کھانا کھاتے ہیں، سانس لیتے ہیں، غلطی کرتے ہیں، پھر توبہ کا موقع پاتے ہیں۔
ہم ہر روز نئی صبح دیکھتے ہیں۔
کتنی نعمتیں ایسی ہیں جنہیں ہم نعمت سمجھنا بھی بھول گئے ہیں۔
رحمت کا شعور شکر پیدا کرتا ہے۔
شکر دل میں سکون پیدا کرتا ہے۔
اور سکون انسان کو اللہ کی طرف واپس لے جاتا ہے۔
جب آپ کو خود رحمت کی ضرورت ہو
شاید اس وقت آپ کی زندگی میں کوئی ایسی چیز ہے جس کا ذکر آپ کسی سے نہیں کرتے۔
شاید آپ تھکے ہوئے ہیں۔
شاید آپ نے کوئی گناہ کیا ہے اور شرمندہ ہیں۔
شاید آپ کسی نقصان کے بعد خود کو سنبھال نہیں پا رہے۔
شاید آپ اللہ کے قریب آنا چاہتے ہیں مگر نہیں جانتے کہاں سے شروع کریں۔
تو بہت دور نہ جائیے۔
اللہ سے بات کیجیے۔
سادہ الفاظ میں۔
“یا اللہ، مجھے اپنی رحمت عطا فرما۔”
یہ دعا بھی عبادت ہے۔
اور یاد رکھیے، اللہ کی رحمت سے امید رکھنا غفلت نہیں۔ بلکہ مومن کا حسنِ ظن ہے، بشرطیکہ امید کے ساتھ وہ اللہ کی طرف قدم بھی بڑھاتا رہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ اللہ اپنے بندے کے لیے اس کی ماں کی اپنے بچے کے ساتھ محبت سے بھی زیادہ رحمت والا ہے۔ Sunnah.com
پھر ہم اپنے رب سے کیوں دور رہیں؟
رحمت کا راستہ کہاں جاتا ہے؟
شاید رحمت کا سفر کسی بہت بڑے فیصلے سے شروع نہ ہو۔
شاید یہ آج شام گھر واپس جا کر کسی سے نرمی سے بات کرنے سے شروع ہو۔
شاید کسی کی غلطی پر خاموشی اختیار کرنے سے۔
شاید کسی غریب کے ہاتھ میں کھانا رکھنے سے۔
شاید اپنے بچے کو ڈانٹنے سے پہلے اسے گلے لگانے سے۔
شاید اپنے والدین کے ساتھ بیٹھنے سے۔
شاید کسی ایسے شخص کو معاف کرنے کی کوشش سے جس نے آپ کا دل دکھایا۔
اور شاید سب سے بڑھ کر، اپنے رب کی رحمت پر دوبارہ یقین کرنے سے۔
رسول اللہ ﷺ کا پیغام بہت صاف ہے: رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ Sunnah
ہم نہیں جانتے کہ ہماری ایک چھوٹی سی رحمت کسی انسان کی زندگی میں کتنی بڑی تبدیلی بن جائے گی۔
ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ہماری کسی نرم بات کے ذریعے اللہ ہمارے لیے کتنی رحمت کے دروازے کھول دے۔
شاید یہی خوبصورتی ہے۔
ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ ہمارا رب الرحمن ہے۔
ہم اس کی رحمت کے محتاج ہیں۔
اور شاید آج ہماری سب سے خوبصورت عبادت یہ ہو کہ جہاں بھی جائیں، کسی نہ کسی کے لیے اس رحمت کا ایک چھوٹا سا ذریعہ بن جائیں۔
پھر دل میں ایک سوال خاموشی سے رہنے دیں:
اگر اللہ کی رحمت ہماری سوچ سے بھی زیادہ وسیع ہے، تو ہماری زندگی میں اس رحمت کا اگلا دروازہ کہاں کھلنے والا ہے؟
