نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

شکر گزاری: اللہ کی نعمتوں کا بہترین جواب


 

شکر گزاری: اللہ کی نعمتوں کا بہترین جواب

شکر گزاری ایمان کی خوبصورت صفت

انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنی کمیوں پر زیادہ نظر رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کو معمولی سمجھ لیتا ہے۔ جب کوئی نعمت اس سے چھن جاتی ہے تو اسے اس کی اصل قدر کا احساس ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مومن کی زندگی کا ہر لمحہ شکر سے بھرپور ہونا چاہیے، کیونکہ شکر صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ایسا طرزِ زندگی ہے جو انسان کو اپنے رب کے قریب لے جاتا ہے۔

شکر گزار بندہ جانتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے، وہ اس کی اپنی قابلیت کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل، کرم اور رحمت ہے۔ یہی احساس دل میں عاجزی پیدا کرتا ہے اور انسان کو تکبر سے بچاتا ہے۔

قرآن مجید میں شکر کی فضیلت

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب سخت ہے۔"

(سورۃ ابراہیم 14:7)

یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ شکر نعمتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ اضافہ صرف مال و دولت میں نہیں بلکہ ایمان، صحت، سکون، محبت، برکت اور اطمینان میں بھی ہوتا ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا، اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو۔"

(سورۃ البقرہ 2:152)

اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کو یاد کرنا اس کے لیے دنیا و آخرت کی سب سے بڑی سعادت ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی زندگی شکر کا نمونہ

رسول اللہ ﷺ ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے تھے۔ خوشی ہو یا آزمائش، آپ ﷺ کا دل ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے آباد رہتا تھا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو اتنی دیر قیام کرتے کہ آپ کے مبارک قدم سوج جاتے۔ جب عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سب گناہ معاف فرما دیے ہیں تو آپ اتنی مشقت کیوں کرتے ہیں؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

"کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟"

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ عبادت صرف فرض ادا کرنے کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔

شکر صرف زبان سے نہیں، عمل سے بھی

بہت سے لوگ صرف "الحمد للہ" کہہ کر سمجھتے ہیں کہ شکر ادا ہو گیا، حالانکہ حقیقی شکر کے تین درجے ہیں۔

دل سے نعمت کا اعتراف

سب سے پہلے انسان یہ یقین رکھے کہ ہر نعمت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ صحت، اولاد، رزق، علم، عزت اور ایمان سب اسی کے فضل سے ہیں۔

زبان سے اللہ کی حمد

مسلمان کی زبان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی تعریف سے تر رہنی چاہیے۔ "الحمد للہ" ایک ایسا ذکر ہے جو دل کو سکون اور روح کو تازگی عطا کرتا ہے۔

نعمت کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کرنا

اگر اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہے تو اسے خیر پھیلانے کے لیے استعمال کریں۔ اگر مال دیا ہے تو اس میں سے صدقہ کریں۔ اگر صحت دی ہے تو عبادت اور خدمتِ خلق میں صرف کریں۔ یہی حقیقی شکر ہے۔

آزمائش میں بھی شکر

شکر صرف خوشی کے وقت نہیں بلکہ آزمائش کے وقت بھی مومن کی شان ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی نعمت کو روک کر بھی اپنے بندے کے لیے بہتر فیصلہ فرماتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر اسے مصیبت پہنچے تو صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔"

(صحیح مسلم)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن ہر حال میں فائدے میں رہتا ہے، کیونکہ وہ خوشی میں شکر اور مشکل میں صبر اختیار کرتا ہے۔

ناشکری کے نقصانات

جب انسان نعمتوں کو اپنا حق سمجھنے لگتا ہے، اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے اور دوسروں پر فخر کرنے لگتا ہے تو ناشکری اس کے دل کو سخت کر دیتی ہے۔

قرآن مجید میں کئی قوموں کا ذکر ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے نعمتیں عطا فرمائیں، لیکن انہوں نے ناشکری کی، جس کے نتیجے میں وہ نعمتیں ان سے چھین لی گئیں۔ یہ واقعات ہمیں متنبہ کرتے ہیں کہ نعمتوں کی حفاظت شکر کے ذریعے ہوتی ہے۔

روزمرہ زندگی میں شکر کیسے پیدا کریں؟

نماز کو شکر کا ذریعہ بنائیں

ہر نماز کے بعد چند لمحے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کریں اور دل سے اس کا شکر ادا کریں۔

قرآن کی تلاوت کریں

قرآن ہمیں بار بار اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی یاد دلاتا ہے۔ روزانہ اس کی تلاوت دل میں شکر کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔

دوسروں کی نعمتوں سے حسد نہ کریں

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ دنیاوی معاملات میں اپنے سے کم حیثیت والے لوگوں کو دیکھو، تاکہ اپنی نعمتوں کی قدر ہو۔

(صحیح مسلم)

روزانہ اپنی نعمتیں گنیں

ہر رات سونے سے پہلے چند نعمتیں یاد کریں جن پر آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر سکتے ہیں۔ یہ عادت دل میں قناعت اور سکون پیدا کرتی ہے۔

صدقہ کریں

جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، وہ عملی طور پر اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اسے اپنے رب کی عطا پر یقین اور شکر ہے۔

شکر اور قناعت کا تعلق

شکر گزار انسان قناعت بھی اختیار کرتا ہے۔ وہ دوسروں کی دولت دیکھ کر بے چین نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اصل دولت مال کی کثرت نہیں بلکہ دل کی بے نیازی ہے۔"

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

یہ بے نیازی شکر سے پیدا ہوتی ہے۔ جب دل اللہ تعالیٰ کی عطا پر راضی ہو جائے تو انسان حقیقی خوشی محسوس کرتا ہے۔

شکر گزار بندوں کا مقام

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

"وہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔"

(سورۃ النحل 16:121)

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شکر گزاری انبیاء علیہم السلام کی نمایاں صفات میں سے تھی۔ اگر ہم بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں تو شکر کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنانا ہوگا۔

اختتامیہ

میرے عزیز مسلمان بھائیو اور بہنو! اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے دل میں سکون ہو، آپ کی زندگی میں برکت ہو اور آپ کا ایمان مضبوط ہو، تو شکر گزاری کو اپنا روزانہ کا معمول بنا لیجیے۔ ہر صبح نئی زندگی پر "الحمد للہ" کہیں، ہر نعمت کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھیں، ہر کامیابی کو اس کا فضل جانیں اور ہر آزمائش میں اس کی حکمت پر بھروسہ رکھیں۔

یاد رکھیں، شکر گزار دل کبھی خالی نہیں ہوتا۔ وہ امید سے بھرپور رہتا ہے، اللہ تعالیٰ سے قریب رہتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی خیر کا ذریعہ بنتا ہے۔ جو بندہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اطمینان، اس کے رزق کو برکت، اس کے اعمال کو قبولیت اور اس کی زندگی کو خیر سے بھر دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی بے شمار نعمتوں کی صحیح قدر کرنے، ہر حال میں شکر ادا کرنے، ناشکری سے بچنے، قناعت اختیار کرنے اور اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔