نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امید اور توکل سے روشن ہوتی ہے زندگی


 

امید اور توکل سے روشن ہوتی ہے زندگی

مومن کبھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا

انسان کی زندگی میں ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جب ہر طرف اندھیرا محسوس ہوتا ہے۔ کبھی بیماری، کبھی معاشی تنگی، کبھی گھریلو مشکلات اور کبھی دل کی بے چینی انسان کو گھیر لیتی ہے۔ ایسے وقت میں شیطان سب سے پہلے انسان کے دل میں مایوسی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اسلام امید کا دین ہے۔ قرآن مجید اور سنتِ رسول ﷺ ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر مشکل سے بڑی اور ہر اندھیرے سے زیادہ روشن ہے۔

ایک سچا مسلمان حالات کو نہیں بلکہ اپنے رب کی قدرت کو دیکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جو رب سمندر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے راستہ بنا سکتا ہے، جو حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں سے مصر کی حکومت تک پہنچا سکتا ہے، اور جو حضرت ایوب علیہ السلام کو طویل بیماری کے بعد شفا عطا کر سکتا ہے، وہی رب آج بھی اپنے بندوں کی دعائیں سنتا اور ان کے لیے بہترین فیصلے فرماتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت بے پایاں ہے

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔ بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔"

(سورۃ الزمر 39:53)

یہ آیت ہر اس شخص کے لیے امید کا پیغام ہے جو اپنے گناہوں، ناکامیوں یا مشکلات سے پریشان ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مایوسی نہیں بلکہ اپنی رحمت کی طرف بلاتے ہیں۔

توکل کا مطلب کیا ہے؟

توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کوشش چھوڑ دے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جائز اسباب اختیار کرے، پوری محنت کرے اور پھر نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔"

(سورۃ الطلاق 65:3)

یہ وعدہ ہر مومن کے لیے کافی ہے۔ جب بندہ اپنے رب پر اعتماد کرتا ہے تو اس کا دل خوف سے آزاد اور امید سے بھر جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیم

ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا:

"یا رسول اللہ! کیا میں اپنی اونٹنی کو کھلا چھوڑ کر اللہ پر بھروسہ کروں؟"

آپ ﷺ نے فرمایا:

"پہلے اسے باندھو، پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔"

(جامع ترمذی)

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام محنت اور توکل دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کا دین ہے۔

دعا امید کو زندہ رکھتی ہے

دعا مومن کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ جب دنیا کے تمام دروازے بند ہوتے نظر آئیں، تب بھی دعا کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہوں۔ دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔"

(سورۃ البقرہ 2:186)

یہ آیت ہمیں یقین دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دل کی ہر بات سنتے ہیں، چاہے ہم اسے زبان سے ادا کریں یا خاموش آنکھوں کے آنسوؤں میں چھپا دیں۔

صبر امید کی حفاظت کرتا ہے

امید صرف خواہش کا نام نہیں بلکہ صبر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھنے کا نام ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔"

(سورۃ البقرہ 2:155)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جس پر اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے آزمائش میں مبتلا کرتا ہے۔"

(صحیح بخاری)

اس لیے آزمائش کو صرف سزا نہ سمجھیں۔ کبھی یہی آزمائش ایمان کو مضبوط، دل کو نرم اور بندے کو اپنے رب کے زیادہ قریب کر دیتی ہے۔

قرآن امید کا سرچشمہ ہے

قرآن مجید صرف احکام کی کتاب نہیں بلکہ دلوں کے لیے شفا اور امید کا خزانہ ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"بے شک اس قرآن میں ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔"

(سورۃ النمل 27:77)

روزانہ قرآن کی تلاوت اور اس کے مفہوم پر غور کرنے سے انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ہر نبی نے آزمائشیں برداشت کیں، مگر آخرکار اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی عطا فرمائی۔

استغفار سے مشکلات آسان ہوتی ہیں

استغفار انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور اس کی رحمت کو متوجہ کرتا ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا:

"اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔"

(سورۃ نوح 71:10)

رسول اللہ ﷺ بھی کثرت سے استغفار فرمایا کرتے تھے۔ یہ ہمارے لیے عملی نمونہ ہے کہ ہم بھی روزانہ اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں۔

دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں

اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ یہ بھی ہے کہ ہم اس کے بندوں کے لیے آسانی پیدا کریں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"جو کسی مسلمان کی دنیاوی پریشانی دور کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ایک بڑی پریشانی دور فرمائے گا۔"

(صحیح مسلم)

کسی کی مدد کرنا، اچھی بات کہنا، کسی غمزدہ شخص کو تسلی دینا یا کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھامنا بھی عظیم عبادت ہے۔

امید کو مضبوط بنانے کے عملی طریقے

نماز کی پابندی کریں

ہر نماز کو اللہ تعالیٰ سے ملاقات سمجھ کر ادا کریں۔ نماز دل کو سکون اور ایمان کو تازگی عطا کرتی ہے۔

روزانہ قرآن پڑھیں

چاہے چند آیات ہی کیوں نہ ہوں، لیکن روزانہ قرآن کی تلاوت اور اس کے معنی پر غور کریں۔

استغفار اور ذکر کو معمول بنائیں

"استغفر اللہ"، "الحمد للہ"، "سبحان اللہ" اور "لا إلہ إلا اللہ" جیسے اذکار دل کو نور بخشتے ہیں اور امید کو زندہ رکھتے ہیں۔

نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں

ایسے لوگوں کے ساتھ رہیں جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی یاد دلائیں، حوصلہ دیں اور نیکی کی طرف راغب کریں۔

ہر حال میں دعا کرتے رہیں

قبولیت میں تاخیر کا مطلب رد ہونا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق بہترین وقت پر بہترین فیصلہ فرماتے ہیں۔

اختتامیہ

میرے عزیز مسلمان بھائیو اور بہنو! اگر آج آپ کسی آزمائش، غم، بیماری، مالی پریشانی یا روحانی کمزوری کا سامنا کر رہے ہیں تو اپنے رب سے امید کا دامن ہرگز نہ چھوڑیں۔ یاد رکھیں، رات جتنی بھی طویل ہو، صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر آزمائش کے بعد اللہ تعالیٰ آسانی پیدا فرماتے ہیں، اگر بندہ صبر، دعا اور توکل کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتا رہے۔

اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے آباد کیجیے، نماز کو مضبوطی سے تھامیے، قرآن کو اپنا ساتھی بنائیے، استغفار کو اپنی عادت بنائیے اور ہر حال میں یہ یقین رکھیے کہ آپ کا رب آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ جو دل اللہ تعالیٰ سے جڑ جاتا ہے، وہ دنیا کے طوفانوں میں بھی سکون پاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت پر کامل یقین رکھنے، سچا توکل اختیار کرنے، ہر حال میں صبر و شکر کی توفیق پانے، اپنی دعاوں میں اخلاص پیدا کرنے اور دنیا و آخرت میں اپنی رضا اور کامیابی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔